اسلام آباد : وزیرِاعظم شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایرانی سفیر رضا امیری مقدم سے اہم ملاقات اور اس کے فوراً بعد ہونے والے اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں سامنے آئی۔
ایرانی سفیر سے ملاقات کے دوران خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرِاعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان علاقائی سالمیت اور پائیدار امن کا حامی ہے۔ پاکستان اور ایران نے کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں پر اتفاق کیا۔ نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور طارق فاطمی کی موجودگی نے اس ملاقات کی سفارتی اہمیت کو مزید واضح کیا۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت ہونے والے خصوصی اجلاس میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے بعد پیدا ہونے والے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔پاکستان کا بنیادی مقصد اب "مذاکرات کے دوسرے دور” کو یقینی بنانا ہے تاکہ عارضی جنگ بندی کو ایک مستقل امن معاہدے میں تبدیل کیا جا سکے۔اجلاس میں پاکستان کی اب تک کی سفارتی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کے درمیان رابطے کے ذریعے مذاکرات کی راہ ہموار کرے گا۔ مشرقِ وسطیٰ کو بڑے بحران سے نکالنے کے لیے "تعمیری سفارت کاری” کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا۔




