کابل: افغانستان اس وقت ایک ایسے شدید قانونی بحران کی زد میں ہے جہاں انصاف کے تمام مروجہ اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر بندوق کے زور پر نظام چلایا جا رہا ہے۔ افغان جریدے "اٹلس پریس” نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں طالبان رجیم کی عدالتوں کا کٹھا چٹھا کھول دیا ہے۔
سابق اٹارنی جنرل کے مطابق، افغانستان میں عدالتیں مکمل طور پر یرغمال بنائی جا چکی ہیں اور قانون کی حکمرانی کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے۔ طالبان رجیم نے جدید قانونی نظام کے بنیادی ستون یعنی "اختیارات کی علیحدگی” (Separation of Powers) کو مٹا دیا ہے، جس سے اداروں کا توازن تباہ ہو گیا ہے۔
رپورٹ میں سب سے سنگین انکشاف یہ کیا گیا ہے کہ طالبان کی نام نہاد عدالتیں اب خود ہی فوجداری مقدمات کی انکوائری کرتی ہیں اور کسی غیر جانبدار تفتیش کے بغیر خود ہی منصف بن کر یکطرفہ فیصلے سنا دیتی ہیں۔




