میڈرڈ: سپین کے زیر انتظام شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں تارکینِ وطن کی غیر معمولی آمد کے بعد حکام نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ بڑی تعداد میں افراد کے سرحد عبور کرنے کی کوشش کے باعث علاقے میں انتظامی اور سکیورٹی صورتحال دباؤ کا شکار ہے۔
حکام کے مطابق حالیہ آمد میں ہزاروں تارکینِ وطن شامل ہیں، جن میں خواتین، بچے اور نوجوان بھی موجود ہیں۔ سیوٹا انتظامیہ نے صورتحال کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں افراد کی آمد سے شہر کے وسائل پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ہسپانوی حکومت نے سیوٹا اور پڑوسی علاقے میلیلا میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں، جبکہ داخل ہونے والے افراد کی واپسی کا عمل جاری ہے۔ وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کو قانون کے مطابق مراکش واپس بھیجا جائے گا۔
یورپی یونین نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سپین کے ساتھ تعاون جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی نگرانی اور انسانی بنیادوں پر اقدامات دونوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صورتحال سے نمٹا جا رہا ہے۔



