پاکستانی حکام نے اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ چند ہفتے خطے میں سیکیورٹی کے لحاظ سے اہم ثابت ہو سکتے ہیں، خصوصاً بھارت میں آنے والے سیاسی اور تنظیمی مواقع کے تناظر میں۔ پاکستان، بھارت سے ممکنہ "مہم جوئی” کے کسی بھی امکان کو رد نہیں کر رہا اور ہر ممکن صورتِ حال کے لیے تیار ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب بھارت کی نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی صد سالہ تقریبات میں تقریباً دو ماہ باقی ہیں۔ 25 ستمبر کو ہونے والی یہ تقریبات تنظیم کے لیے اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آر ایس ایس بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مادر تنظیم سمجھی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان ان تقریبات کے تناظر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) یا سفارتی سطح پر ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے کسی بھی غیر معمولی یا جارحانہ اقدام کے امکان پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
0 7 1 minute read




