راولپنڈی:راولپنڈی میں جرگے کے حکم پر لڑکی کے لرزہ خیز قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے مقتولہ کے والد اور دو چچاؤں کو قتل میں ملوث قرار دے دیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق 17 اور 18 جولائی کو سدرہ عرب کو منہ پر تکیہ رکھ کر قتل کیا گیا۔ واردات کا حکم مقامی جرگے نے دیا، جو عصمت اللہ کی بیٹھک میں منعقد ہوا تھا۔
پولیس نے 6 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں سے 5 کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے لاہور کی فرانزک لیب بھیج دیے گئے ہیں۔ مقتولہ کے والد کا ڈی این اے ٹیسٹ پہلے ہی مکمل کیا جا چکا ہے۔
تفتیش کے دوران قتل میں استعمال ہونے والی بیڈ شیٹ اور دیگر اشیاء بھی برآمد کر لی گئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش سائنسی بنیادوں پر کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
واضح رہے کہ قتل کے بعد مقتولہ کی لاش کو راتوں رات دفن کر دیا گیا تھا، جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ چکی ہے۔ کیس میں اب تک 8 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جبکہ مقتولہ کا دوسرا شوہر بھی خود کو پولیس کے حوالے کر چکا ہے۔




