کابل/جلال آباد : افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں گزشتہ رات آنے والے زلزلے نے شدید تباہی مچادی ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق زلزلے کی شدت 6.2 ریکارڈ کی گئی، جس کا مرکز جلال آباد کے قریب تھا۔ زلزلے کی گہرائی 8 کلومیٹر تھی اور یہ رات 11 بج کر 47 منٹ پر آیا۔ تقریباً 20 منٹ بعد 4.5 شدت کا آفٹر شاک بھی محسوس کیا گیا تھا۔
مقامی حکام کے مطابق، ضلع نورگل کے کئی دیہات مکمل طور پر ملبے تلے دب چکے ہیں اور سیکڑوں افراد کے زخمی یا ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے کیونکہ دور دراز علاقوں سے رابطہ بحال ہونے میں وقت لگ رہا ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے رات گئے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور مختلف صوبوں سے امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں روانہ کر دی گئی ہیں۔
پاکستان کے متعدد شہروں میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جن میں اسلام آباد، لاہور، پشاور، مردان، چکوال، ٹیکسلا، واہ کینٹ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات اور چترال شامل ہیں۔ پاکستان زلزلہ پیما مرکز کے مطابق یہاں زلزلے کی شدت 6.0 تھی اور گہرائی 15 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ رات 12 بج کر 38 منٹ پر 4.6 شدت کے آفٹر شاکس بھی رپورٹ ہوئے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امدادی اداروں کے تعاون کے لیے آگے آئیں، ملبے تلے دبے افراد کی فوری اطلاع دیں اور غیر ضروری افواہوں سے گریز کریں۔ شدید متاثرہ علاقوں میں اشیائے ضروریہ، طبی امداد اور خیموں کی اشد ضرورت ہے۔




