اسلام آباد : سکیورٹی اداروں نے اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس پر ہونے والے خودکش حملے کے سہولت کار اور ہینڈلر کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جلد کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو حراست میں لیا۔
ذرائع کے مطابق سہولت کار گزشتہ ایک ماہ سے راولپنڈی میں چھپ کر مقیم تھا، جب کہ ہینڈلر کو خیبرپختونخوا سے گرفتار کیا گیا۔ اس حملے میں ملوث پانچ افراد کو اب تک حراست میں لیا گیا ہے۔
تحقیقات سے پتا چلا کہ حملے سے قبل سہولت کار اور خودکش بمبار دونوں نے جوڈیشل کمپلیکس کی بار بار ریکی کی تھی تاکہ حملے کی منصوبہ بندی مکمل کی جا سکے۔ ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
سہولت کار کو راولپنڈی کے ڈھوک پراچہ علاقے سے پکڑا گیا، جہاں وہ راولپنڈی کینٹ کے اہم مقامات کی بھی ریکی کرتا رہا تھا۔ دونوں ملزمان کو صرف 40 گھنٹوں میں گرفتار کیا گیا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ خودکش بمبار کا تعلق افغانستان سے تھا اور ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ نہ پاکستانی زبان سمجھتا تھا اور نہ ہی پاکستانی کرنسی سے واقف تھا۔ وزیر مملکت نے مزید کہا کہ حملہ آور اسلام آباد میں داخل ہونے کے بعد مختلف موٹر سائیکلوں پر سفر کرتا رہا اور کرایہ ادا کرنے میں اسے مشکلات پیش آئیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کی کچہری پر منگل کو ہونے والے اس حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہو گئے تھے۔




