اسلام آباد: سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں مشترکہ دفاع اور سکیورٹی تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی جریدے بلومبرگ اور آذربائیجان کے جریدے کالیبر کے مطابق یہ معاہدہ تین اہم علاقائی طاقتوں کو مشترکہ دفاعی فریم ورک میں جوڑتا ہے، جس میں ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کرنے کا اصول شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق معاہدہ بدلتی ہوئی علاقائی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں نئے شراکت داروں اور علاقائی صف بندیوں کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے اور خطے میں موجودہ سکیورٹی خلا سے نمٹنے کے لیے نئی بنیاد فراہم کرسکتا ہے۔
کالیبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، جبکہ رپورٹس میں پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور فوجی افرادی قوت کو اس دفاعی فریم ورک کا اہم عنصر قرار دیا گیا ہے۔




