تحریر: سعدیہ مجید
اگر اس پورے عمل کو محض اس بنیاد پر پرکھا جائے کہ کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا، تو یہ تجزیہ نہ صرف سطحی ہوگا بلکہ سفارت کاری کی اصل روح سے بھی ناواقفیت کا مظہر ہوگا۔ بین الاقوامی تعلقات کے سنجیدہ مطالعے میں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ہر مذاکراتی عمل کا مقصد فوری نتیجہ حاصل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات اصل کامیابی اس "اسٹریٹجک ماحول” کی تشکیل میں ہوتی ہے جو مستقبل کے معاہدوں کی بنیاد رکھتا ہے۔ پاکستان نے اسی اعلیٰ سطحی فہم کا مظاہرہ کیا۔ اس نے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں تصادم کی شدت کو کم کیا جا سکے، بیانیے کو نرم کیا جا سکے، اور فریقین کو ایک دوسرے کے مؤقف کو سننے کا موقع ملے۔ یہ وہ "خاموش سرمایہ کاری” ہے جو فوری طور پر نظر نہیں آتی مگر طویل المدت استحکام کی ضامن ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ اگرچہ معاہدہ نہیں ہوا، مگر پاکستان نے سفارت کاری کے اس پیچیدہ
کھیل میں اپنی فکری برتری، تدبر اور عالمی ذمہ داری کا بھرپور اظہار کیا,اور یہی وہ کامیابی ہے جسے وقت خود تسلیم کرے گا۔
عالمی سیاست کے موجودہ منظرنامے میں، جہاں طاقت کے توازن تیزی سے بدل رہے ہیں اور روایتی سفارت کاری کی جگہ ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی نظام لے رہا ہے، پاکستان نے حالیہ علاقائی مذاکرات میں جو کردار ادا کیا، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ ایک نئی سفارتی حکمتِ عملی کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ اگرچہ یہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر منتج نہ ہو سکے، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان نے اپنی گنجائش سے بڑھ کر اس عمل کو سہارا دیا اور یہی کسی بھی ذمہ دار اور ابھرتی ہوئی طاقت کی اصل پہچان ہوتی ہے۔
یہ محض ایک سفارتی تقریب نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا نازک مرحلہ تھا جہاں ہر لفظ، ہر اشارہ اور ہر خاموشی بھی معنی رکھتی تھی۔ اس حساس ماحول میں پاکستان نے جس تدبر، تحمل اور حکمت کا مظاہرہ کیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے، بالخصوص مسلح افواج، اب محض دفاعی کردار تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ ایک وسیع تر اسٹریٹجک وژن کے تحت خطے میں استحکام کے ضامن بن رہے ہیں۔
پاکستان آرمی، خفیہ اداروں اور سفارتی قیادت کے درمیان جو ہم آہنگی دیکھنے میں آئی، وہ ایک مربوط قومی پالیسی کی عکاس تھی۔ یہ وہ ہم آہنگی ہے جو کسی بھی پیچیدہ بین الاقوامی عمل کو کامیاب بنانے کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ پسِ پردہ رابطے، اعتماد سازی کے اقدامات، اور مذاکراتی ماحول کو سازگار بنانے کی حکمتِ عملی—یہ سب ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی ثالثی کردار کو مؤثر بناتے ہیں، اور پاکستان نے ان تمام پہلوؤں میں اپنی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کی اس کوشش کو جو پذیرائی ملی، وہ بھی غیر معمولی ہے۔ امریکی نائب صدر JD Vance کا یہ کہنا کہ پاکستان کی میزبانی "incredible hosting” تھی، دراصل ایک بڑے اعتماد کا اظہار ہے۔ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اب صرف ایک علاقائی کھلاڑی نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتبار شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، ایران کی جانب سے بھی پاکستان کے کردار کو نہایت مثبت انداز میں سراہا گیا۔ ایرانی حکام نے پاکستان کو "امن کا مخلص ساتھی” اور "قابلِ اعتماد دوست” قرار دیا۔ یہ الفاظ محض سفارتی آداب کا حصہ نہیں بلکہ اس گہرے تعلق کی عکاسی کرتے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان وقت کے ساتھ مضبوط ہوا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف ایران کے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنے میں مدد دی بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ مذاکراتی عمل کسی تعطل کا شکار نہ ہو۔
یہاں پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی اس کا متوازن کردار تھا۔ ایک طرف وہ ایران کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی رشتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے ساتھ کھڑا رہا، تو دوسری طرف امریکہ جیسے عالمی طاقت کے ساتھ بھی ایک تعمیری اور مثبت رابطہ برقرار رکھا۔ یہ توازن قائم رکھنا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں مفادات کا تصادم شدید ہو۔ مگر پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ وہ نہ صرف اس توازن کو برقرار رکھ سکتا ہے بلکہ اسے اپنے اسٹریٹجک فائدے میں بھی تبدیل کر سکتا ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بھی اس تمام عمل میں ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آئی۔ گوادر بندرگاہ، جیوانی ایئر بیس، اور خلیجِ عمان کے قریب اس کی پوزیشن, یہ سب عوامل اسے خطے میں ایک قدرتی اسٹریٹجک مرکز بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اب پاکستان کو صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک "اسٹریٹجک پل” کے طور پر دیکھنے لگی ہیں، جو مشرق اور مغرب کے درمیان رابطے کو ممکن بناتا ہے۔
مزید برآں، اس پورے عمل میں پاکستان نے جس "اسٹریٹجک خودمختاری” کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ ذکر ہے۔ اس نے کسی ایک فریق کے دباؤ میں آئے بغیر، اپنے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے۔ یہی وہ پالیسی ہے جو مستقبل میں پاکستان کو ایک خودمختار اور باوقار عالمی کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گی۔
اگرچہ بظاہر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے، مگر سفارت کاری میں کامیابی کا پیمانہ صرف معاہدوں سے نہیں لگایا جاتا۔ اصل کامیابی اس بات میں ہوتی ہے کہ کیا آپ نے کشیدگی کو کم کیا، کیا آپ نے اعتماد کی فضا قائم کی، اور کیا آپ نے مستقبل کے امکانات کو زندہ رکھا۔ ان تمام حوالوں سے دیکھا جائے تو پاکستان نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
آج کی دنیا میں جہاں طاقت کا استعمال اکثر مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے، وہاں پاکستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ دانشمندانہ سفارت کاری، توازن اور بصیرت کے ذریعے بھی بڑے مسائل کو سنبھالا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا ماڈل ہے جو مستقبل کی عالمی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان نے اس پورے عمل میں نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ ایک نئی سمت بھی متعین کی۔ یہ وہ سمت ہے جہاں طاقت کا مظاہرہ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ حکمت، صبر اور بصیرت سے کیا جاتا ہے۔
اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر ایک فیصلہ کن اور رہنما کردار ادا کرتا نظر آئے گا, اور تب یہ چراغ، جو آج خاموشی سے جل رہا ہے، ایک روشن مینار کی صورت اختیار کر چکا ہوگا۔
اک سوچ …تحریر: سعدیہ مجید

نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے




