غزہ: اسرائیل کی جانب سے امن معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں فلسطینیوں کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی اموات اور زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے پر حملہ کر کے ایک اور فلسطینی کو شہید کر دیا، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
غزہ میں جنگ بندی کے بعد سے اب تک 93 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور 320 زخمی ہیں۔ فلسطینیوں کی مجموعی شہداء کی تعداد 68,519 اور زخمیوں کی تعداد 170,382 تک پہنچ چکی ہے۔ اسرائیلی فورسز کے حملے اور غیر قانونی آبادکاری کے مسائل علاقے میں مسلسل بڑھ رہے ہیں، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے بھی جاری ہیں، جس سے علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔ فلسطینیوں کو اپنے ہی علاقوں میں تحفظ حاصل نہیں ہو پا رہا، اور ان کے لیے زندگی گزارنا مزید مشکل ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ نے غزہ کی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے بدتر قرار دیا ہے۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک 90 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور اسرائیل نے رفح بارڈر کی بندش اور امداد کی فراہمی روک کر انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ حازم قاسم نے اس بات پر زور دیا کہ حماس غزہ میں امن معاہدے کی کامیابی اور اس کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
حازم قاسم نے بتایا کہ مصر، قطر اور ترکیہ نے واضح ضمانتیں فراہم کی ہیں اور امریکا نے بھی اس معاملے پر براہ راست تصدیق کی ہے۔ انہوں نے امریکا کے مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم نہ کرنے کے مؤقف کو ایک مثبت قدم قرار دیا اور کہا کہ اس سے فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کی امید پیدا ہوئی ہے۔




