پاکستان
Trending

بلوچستان میں ’حقوق کی جنگ‘ کے لبادے میں دہشت گردی اب برداشت نہیں کی جائے گی:ریاست کا دو ٹوک فیصلہ،طلال چوہدری کی ایوان میں گفتگو

 

اسلام آباد : وفاقی حکومت نے بلوچستان میں جاری حالیہ پُرتشدد واقعات کو سیاسی یا معاشی محرومی کے بجائے خالصتاً دہشت گردی قرار دے دیا ہے۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے واضح کیا کہ ریاست دشمن عناصر اب حقوق کا بیانیہ استعمال کر کے معصوم شہریوں کا خون نہیں بہا سکیں گے۔
طلال چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ بلوچستان میں آزادی کے نام پر بینکوں کو لوٹا جا رہا ہے اور سرکاری دفاتر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کا کسی بھی سیاسی جدوجہد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد "بلوچی حقوق” کا نام استعمال کر کے دراصل عام بلوچ شہریوں کو ہی قتل کر رہے ہیں، جو ان کے منافقانہ طرزِ عمل کا ثبوت ہے۔
وزیر مملکت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کالعدم بی ایل اے (BLA) بھارت کی سرپرستی میں پاکستان کے خلاف برسرِ پیکار ہے اور ان کا مقصد صرف ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ اب "محرومی” کا عذر پیش کر کے دہشت گردی کو جواز فراہم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ حقوق کی بات کرنے والوں کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے ہو سکتے ہیں، لیکن جو عناصر نہتے شہریوں اور قومی تنصیبات پر حملے کریں گے، ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button