نئی دہلی:بھارت کی داخلی سیاست میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جب سرکردہ بھارتی سیاستدان آنند بھدوریا نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کا کچا چٹھا فاش کرتے ہوئے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے مودی کے اسرائیل نواز رویے کو "انسانیت دشمن” قرار دیتے ہوئے ایرانی قیادت کے حوصلے کی مثالیں دے ڈالیں۔آنند بھدوریا نے عوامی پلیٹ فارم پر بی جے پی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا جب اسرائیل غزہ میں معصوم بچوں اور عورتوں کا قتلِ عام کر رہا تھا، تو مودی نے کس کے اشارے پر اسرائیل کا دورہ کیا؟ کیا بھارت اب نسل کشی کرنے والوں کا ساتھی بن چکا ہے؟۔
انہوں نے مودی پر الزام لگایا کہ اقتدار بچانے کے لیے مودی نے امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں اور وہ وہی کر رہے ہیں جو واشنگٹن سے حکم مل رہا ہے۔بھارتی سیاستدان نے ایرانی سپریم لیڈر کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہم ایرانی سپریم لیڈر کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے حق کی خاطر شہادت تو قبول کر لی مگر مودی کی طرح امریکہ کی غلامی قبول نہیں کی۔ ایرانیوں نے غیرت کی تاریخ لکھی، جبکہ مودی نے بھارت کی روایتی آزاد خارجہ پالیسی کا سودا کر دیا۔
اس بیان نے بھارت بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف بی جے پی کے حامی اسے ‘ملک دشمنی’ قرار دے رہے ہیں، تو دوسری طرف بڑی تعداد میں بھارتی عوام اور اپوزیشن لیڈرز مودی کے اس "مکروہ کردار” کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں جو بھارت کو عالمی سطح پر متنازع بنا رہا ہے۔




