بین الاقوامی
Trending

ایران گھٹنوں پر آ گیا، اب ڈیل کے لیے’’ بھیک‘‘ مانگ رہا ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

 

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ کابینہ اجلاس میں ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے حوالے سے انتہائی تہلکہ خیز دعوے کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کے دفاعی ڈھانچے کو اس حد تک نشانہ بنایا ہے کہ اب وہ اپنی بقا کے لیے معاہدے کی "بھیک” مانگنے پر مجبور ہو گیا ہے۔
کابینہ ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حملوں نے ایرانی فضائیہ، بحریہ اور ریڈار سسٹم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر بی-ٹو (B−2) سٹیلتھ بمبار طیاروں کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہااگر ہم بروقت کارروائی نہ کرتے تو ایران محض 14 دنوں کے اندر ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے قریب تھا۔ ہم نے ان کی ڈرون اور میزائل فیکٹریاں تباہ کر کے ان کا مشرقِ وسطیٰ پر قبضے کا خواب چکنا چور کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی اتحاد بالخصوص نیٹو (NATO) کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں "کاغذی شیر” قرار دیا۔ ان کا موقف تھا کہ ایران کے خلاف اس اہم معرکے میں امریکہ تنہا لڑا ہے اور کسی اتحادی نے عملی مدد فراہم نہیں کی۔ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران کے پاس اپنے ایٹمی پروگرام سے دستبردار ہونے کا یہ آخری موقع ہے۔ امریکہ آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا رکھنا چاہتا ہے۔
صدر نے دعویٰ کیا کہ ان فوجی اقدامات سے سمندری راستے سے منشیات کی اسمگلنگ میں 98 فیصد کمی آئی ہے۔”اگر ایران نے فوری طور پر شرائط تسلیم نہ کیں اور جنگ بندی نہ ہوئی، تو ہم مزید بے رحمی سے حملے کریں گے۔صدر ٹرمپ کے مطابق ایران اب وہ ملک نہیں رہا جو چند ہفتے پہلے تھا؛ اب وہ کمزور ہو چکا ہے اور امریکی طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا تہران ان سخت شرائط پر گھٹنے ٹیکتا ہے یا خطے میں کشیدگی کا نیا رخ سامنے آتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button