بین الاقوامی
Trending

افغانستان میں طالبان کی وحشت کا راج: انسانی حقوق کی پامالی انتہا کو پہنچ گئی، تشدد کے واقعات میں 40 فیصد اضافہ

 

کابل: افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر کام کرنے والی تنظیم ‘رواداری’ نے طالبان رجیم کے ہولناک مظالم کا پردہ چاک کرتے ہوئے ایک چشم کشا رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں قانون کی جگہ بندوق اور رواداری کی جگہ وحشت نے لے لی ہے، جس سے پورا ملک شدید معاشی اور سماجی بحران کی لپیٹ میں ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں 40.4 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ منظم تشدد اور جبری گمشدگیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 611 افراد لقمہ اجل بنے یا لاپتہ کر دیے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی آمرانہ پالیسیوں نے شہریوں کے بنیادی حقوق کو پیروں تلے روند دیا ہے۔
افغان طالبان نے خواتین پر نئی اور سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس سے ان کے جینے کے تمام راستے مسدود ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق معاشی وسائل اور بنیادی سہولیات سے مکمل طور پر محروم کر دی گئی ہیں۔ سال 2025 اور 2026 کے دوران جبری قوانین کے ذریعے خواتین کو سماجی دھارے سے باہر کر دیا گیا ہے۔
تنظیم ‘رواداری’ نے اپنی رپورٹ میں طالبان کے عدالتی نظام کو "غیر انسانی” قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرِعام کوڑے مارنے اور تذلیل آمیز جسمانی سزاؤں کا نفاذ عالمی انسانی حقوق کے چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ آزاد عدلیہ کی عدم موجودگی میں افغان عوام کے لیے انصاف کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کا موجودہ طرزِ حکمرانی انسانی اقدار کے منافی ہے اور عالمی برادری کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button