سرینگر: کشمیری رہنما یاسین ملک نے سرینگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کراتے ہوئے بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہ ہونے کا اظہار کیا ہے۔
یاسین ملک نے اپنے حلف نامے میں کہا کہ وہ بھارتی حکومت کی جانب سے 36 سال بعد ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کرکے انہیں پھانسی دینے کی مبینہ سازش کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث ہونے کے الزام کو بھی دوٹوک انداز میں رد کردیا۔
حلف نامے کے مطابق یاسین ملک نے مقدمہ مزید لڑنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت انہیں سزائے موت بھی سناتی ہے تو وہ کشمیر کے لیے اسے قبول کریں گے، تاہم سزا قبول کرنے کا مطلب جرم کا اعتراف نہیں ہوگا۔
یاسین ملک نے بھارتی عدالتی نظام پر اعتماد نہ ہونے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مؤقف میں کہا کہ انہیں عدالت سے انصاف کی توقع نہیں ہے۔




