کوہاٹ: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج اور پولیس کے جوانوں نے بہادری کی نئی مثال قائم کی ہے، شہداء نے ملکی دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان کی علاج زخمی جوانوں کا حوصلہ قابلِ دید ہے۔ بزدل دہشت گرد چھپ کر وار کررہے ہیں، لیکن وہ قوم کے جذبے کو کمزور نہیں کرسکتے۔ دہشت اظہار پوری قوم کے لیے حوصلے کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں قوم قربانیاں قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔
کوہاٹ میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ آج کوہاٹ کی فضا سوگوار ہے، جبکہ سی ایم ایچ میں زیر علاج زخمی جوانوں کا حوصلہ قابلِ دید ہے۔ بزدل دہشت گرد چھپ کر وار کررہے ہیں، لیکن وہ قوم کے جذبے کو کمزور نہیں کرسکتے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ شہید فہیم کے والد کا اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر کا اظہار پوری قوم کے لیے حوصلے کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں قوم، فوج اور پولیس متحد ہیں اور مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے۔
عطا تارڑ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کوہاٹ کے افسوسناک واقعے کے وقت وزیراعلیٰ کہاں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سیاسی سرگرمیوں اور پوائنٹ اسکورنگ کے 12 سالہ دورِ حکومت کی کارکردگی کا جواب دینا ہوگا۔ تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے شعبوں میں صوبائی حکومت کی کاربرپختونخوا میں کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ من پسند افراد کو ٹھیکے دے کر مبینہ طور پر پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔ ان کے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی اور کسی مسلح جتھے کو اسلام آباد کی طرف آنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج کے بجائے جلاؤ گھیراؤ کی اجازت لیے لاہور کی سڑکوں پر موجود تھے، جبکہ صوبے کے عوام کے لیے وقت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو اپنے ساڑھے 12 سالہ دورِ حکومت کی کارکردگی کا جواب دینا ہوگا۔ تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے شعبوں میں صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں پولیس کی سہولت کے لیے فرانزک لیب تک موجود نہیں۔
وفاقی وزیر نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ من پسند افراد کو ٹھیکے دے کر مبینہ طور پر پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں وسائل اور فنڈز کی کمی نہیں بلکہ نیت کی کمی ہے۔
اسلام آباد میں احتجاج کے حوالے سے عطا تارڑ نے واضح کیا کہ وفاقی دارالحکومت کو بند کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی اور کسی مسلح جتھے کو اسلام آباد کی طرف آنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج کے بجائے جلاؤ گھیراؤ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ہیلی کاپٹر پر کوہاٹ آئے، مختصر دورہ کیا اور واپس چلے گئے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ کو زخمی جوانوں سے ملاقات کرکے ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تھی۔




