پاکستان
Trending

دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی ضروری، اسلام آباد پر چڑھائی برداشت نہیں کریں گے: شہباز شریف

 

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف خاموشی اختیار کرنا ملک دشمنی کے مترادف ہے، دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے لیے اسلام آباد پر چڑھائی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے خیبرپختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ان کے بقول دہشت گردی کے واقعات کو پسِ پشت ڈال کر اسلام آباد پر چڑھائی کا منصوبہ بنایا گیا، جس کا مقصد ماضی کے واقعات کو دہرانا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام دہشت گردی کے باعث بڑے پیمانے پر نقصان اٹھا چکے ہیں، لیکن صوبائی حکومت نے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی استعدادِ کار میں اضافے پر توجہ نہیں دی۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کا عزم غیر متزلزل ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاق کے ساتھ صوبائی حکومت کو بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جتھوں کے ذریعے اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش ملک میں معاشی استحکام کے لیے جاری اقدامات کو متاثر کرنے کے مترادف ہے، جسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

افغانستان کے معاملے پر وزیراعظم نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہرگز قبول نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ افغان طالبان رجیم کو واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کو روکا جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے خاتمے، ملک میں امن و امان کے قیام اور معاشی استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button