اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں آئین کے مطابق اقدامات اٹھائے گئے، وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف متفقہ پالیسی بنانا چاہتی تھی، تاہم صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے تیار نہیں تھی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کی عملداری ختم ہو چکی تھی، جبکہ صوبے کے عوام مشکلات سے دوچار تھے۔ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور متفقہ حکمت عملی اپنانا چاہتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایک ملک میں دو خارجہ پالیسیاں نہیں ہو سکتیں۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے متفقہ پالیسی ضروری ہے۔
اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آئین ریاستی نظام اور غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار کا تعین کرتا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات پر آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے آئینی دائرہ کار کے مطابق اقدامات کرنا ضروری ہیں۔




