اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مجلسِ شوریٰ کے اجلاس میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور صوبائی حکومت کے تعاون کے لیے ہر ممکن کوشش کی، لیکن اپیکس کمیٹی کے قیام کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے درجنوں واقعات پیش آئے اور حکومت نے پی ٹی آئی کو دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔ ہماری پوری کوشش تھی کہ صوبے میں ایمرجنسی نافذ نہ کرنا پڑے اور معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔
وزیر داخلہ کے مطابق مذاکرات کے دوران دہشت گردی کا معاملہ سب سے پہلے اٹھایا گیا۔ انہوں نے اسد قیصر سے بھی کہا کہ ان کے مؤقف اور صوبائی حکومت کی بات میں فرق ہے۔ سہیل آفریدی سے کئی بار ذاتی ملاقات ہوئی، وہ کہتے تھے کہ آپریشن کو سیاسی طور پر برداشت نہیں کرسکتے۔
محسن نقوی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے درخواست کرکے شہدا کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ ان کے بقول، جوانوں کی شہادتوں کے اگلے روز وزیراعلیٰ فوج کے خلاف بات کرتے تھے، جبکہ صوبائی وزیر اطلاعات نے لائیو پروگرام میں دہشت گردی کی مذمت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر پی ٹی آئی کی قومی قیادت پیچھے نہیں ہٹی اور اسد قیصر نے بھی دہشت گردی کے خلاف بات کی۔ حکومت نے ہر بار مذاکرات کرکے معاملات سلجھانے کی کوشش کی اور مذاکرات سے اٹھ کر نہیں گئی۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے آخری لمحے تک ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کی کوشش کی اور صوبائی حکومت سے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کرے۔ تاہم، ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں موجود بعض لوگوں نے حکومت کو یہ اقدام کرنے پر مجبور کیا۔




