پاکستان
Trending

دہشت گردی کے خلاف کارروائی ناگزیر ہوچکی، سیاسی مفاہمت کا وقت گزر گیا، اسحاق ڈار

 

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں آئین کے مطابق ایمرجنسی نافذ کی گئی، جبکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی نے ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ملک کو مزید جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد تمام سیاسی قیادت کو پشاور مدعو کیا گیا تھا، جبکہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب شروع کیا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں علاقے چھوڑنا پڑے۔ ان کے مطابق دہشت گردوں کا ملک بھر میں تعاقب بھی کیا گیا۔

نائب وزیراعظم نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردوں کی واپسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کس نے سرحد کھول کر انہیں ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی اور کس حکومت نے جیلوں سے ان کی رہائی کا فیصلہ کیا؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کابل میں چائے نوشی کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کے حوالے سے نرمی اختیار کی گئی، جس کے بعد دہشت گردی کے مسائل دوبارہ سر اٹھانے لگے۔ انہوں نے تحریک انصاف کے بعض افراد کو بھی اس صورت حال کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ قوم کب تک اپنے جوانوں اور بچوں کی قربانیاں دیتی رہے گی؟ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کا وقت آچکا ہے اور اس مسئلے سے مزید چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ وزیراعظم کی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مولانا نے معاملے پر دوبارہ مذاکرات شروع کرانے کے لیے کوشش کرنے کی پیشکش کی تھی۔ اسحاق ڈار کے مطابق وزیراعظم نے انہیں بتایا کہ معاملہ بہت آگے بڑھ چکا ہے اور وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ صورت حال اب سیاسی مفاہمت سے آگے نکل چکی ہے۔

خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے صوبے میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی کارکردگی سے متعلق سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت نے 800 ارب روپے مؤثر انداز میں خرچ کیے ہوتے تو حالات مختلف ہوتے۔

نائب وزیراعظم نے بتایا کہ بلوچستان کو دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت ایک فیصد حصہ دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق وفاقی کابینہ کا خیال تھا کہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے بغیر دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات ممکن نہیں۔ انہوں نے سابق وزیراعلیٰ پر سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے دوسرے صوبوں کے دورے کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

واضح رہے کہ اسحاق ڈار کے خطاب میں خیبرپختونخوا کی صورت حال، دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متعلق سیاسی مؤقف اور الزامات سامنے آئے۔ ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف شامل ہونے سے معاملے کی مزید وضاحت ہوسکے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button