راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکمت عملی بھارت سے مختلف ہے، ہم اپنے تمام داخلی مسائل کا ذمہ دار بیرونی عناصر کو قرار نہیں دیتے اور نہ ہی یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی تمام دہشت گردی صرف افغانستان کی وجہ سے ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان وہ بنیادی اڈہ ہے جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کی جاتی ہیں، تاہم دہشت گردی کے مسئلے کو اس کے تمام پہلوؤں کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز انجام دے رہی ہیں تاکہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 20 برس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور اس طویل جدوجہد کے دوران پاکستانی افواج نے انسدادِ دہشت گردی کا غیر معمولی تجربہ حاصل کیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف دو دہائیوں پر محیط جنگ نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کو وسیع عملی مہارت فراہم کی ہے، جس کا تجربہ کسی دوسرے ملک یا فوج کے پاس نہیں۔




