نیند کے دوران منہ کھول کر سونا ایک عام عادت ہے جو اکثر ناک بند ہونے یا ٹانسلز بڑھنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ خود کوئی بیماری نہیں، مگر اگر اس کے ساتھ خراٹے آتے ہوں یا سانس لینے میں دشواری ہو تو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
ماہرین نے بتایا کہ ناک کی نالی میں رکاوٹ جیسے اڈینائڈز کا بڑھنا یا سیپٹم کارٹلیج کا ٹیڑھا ہونا منہ سے سانس لینے پر مجبور کرتا ہے، جس سے منہ خشک اور سوزش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایسے افراد کی نیند کا معیار بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
اگر نیند کے دوران منہ کھولنے کے ساتھ خراٹے، سانس رکنا یا گلے میں خشکی جیسی علامات ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ یہ نیند کی بیماری "سلیپ اپنیا” کی علامت ہو سکتی ہیں، جو جسمانی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق اگرچہ منہ کھول کر سونا اکثر معمول ہے، لیکن نیند کی خرابیوں کو نظر انداز نہ کریں اورفوری معائنہ کروائیں۔




