آنے والے 25 سالوں میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی زندگی کیسی ہوگی؟ ایک تازہ سائنسی تحقیق نے اس بارے میں تشویشناک پیش گوئیاں کی ہیں۔
اگرچہ آج سوشل میڈیا نوجوانوں اور مشہور شخصیات کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، مگر اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مسلسل فون اور کمپیوٹر استعمال سے صحت کے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کے انفلوئنسرز اپنی روزمرہ زندگی کے مناظر شیئر کر کے بڑی آمدنی حاصل کرتے ہیں، لیکن ان کے جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات بھی بڑھ رہے ہیں۔
تحقیق کے مطابق، زیادہ اسکرین ٹائم کی وجہ سے انفلوئنسرز کو “ٹیک نیک” یعنی گردن کے درد اور جھکاؤ کی بیماری لاحق ہو رہی ہے۔ جریدہ Interdisciplinary Neurosurgery میں شائع تحقیق کے مطابق، طویل اسمارٹ فون استعمال سے گردن کی پوزیشن نقصان دہ ہو جاتی ہے جو مستقل درد کا باعث بنتی ہے۔

مزید برآں، مسلسل میک اپ اور بیوٹی پروڈکٹس کے استعمال سے جلد پر سرخ دھبے اور جلدی مسائل بڑھ رہے ہیں، جبکہ LED لائٹس کے طویل استعمال سے جلد کی بڑھاپے کی رفتار تیز ہو رہی ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نیلی روشنی (Blue Light) کا زیادہ استعمال دماغی صحت کو متاثر کر سکتا ہے، نیند کے مسائل اور دماغی کمزوری کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ تحقیق ایک انتباہ ہے کہ اگر انفلوئنسرز اور صارفین اپنی عادات نہ بدلیں تو 2050 تک سوشل میڈیا کا استعمال صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔




