غزہ: فلسطینی تنظیم حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو قبول کرتے ہوئے یرغمالیوں کی واپسی کے لیے مکمل رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ حماس نے ثالثوں کے ذریعے اپنے جوابات فراہم کر دیے ہیں اور مذاکرات میں بھرپور حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔
صدر ٹرمپ نے فوری طور پر اسرائیل کو ہدایت کی ہے کہ وہ غزہ پر بمباری روک دے تاکہ امن کی جانب قدم بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کو تاریخی موقع قرار دیا اور یرغمالیوں کے جلد گھر واپسی پر خوشی کا اظہار کیا۔
حماس نے غزہ کی خودمختاری کو فلسطینی ٹیکنوکریٹس کے حوالے کرنے اور ہتھیاروں کو مستقبل کی فلسطینی قیادت کے سپرد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، تنظیم نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا تک وہ غیرمسلح نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے امن مذاکرات میں مدد دینے والے قطر، مصر، سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔




