سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت نے اقوامِ متحدہ کی طرف سے طلب کردہ وضاحت پیش کرنے میں ناکامی ظاہر کی ہے۔خصوصی نمائندوں کی مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہوئے 34 دن گزر چکے ہیں، لیکن نئی دہلی کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔
اقوامِ متحدہ نے بھارت سے 16 دسمبر 2025 تک تحریری جواب طلب کیا تھا، مگر بھارت کی خاموشی جاری ہے۔سندھ طاس معاہدے سے متعلق اہم سوالات بدستور موجود ہیں، اور بھارتی مؤقف نہ آنے کی وجہ سے یہ معاملہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ اب بھی بھارت کی وضاحت کا انتظار کر رہی ہے، جبکہ ماہرین اور بین الاقوامی حلقے اس خاموشی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔




