اسلام آباد :گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کے مابین اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کو صوبے کے پسماندہ بالخصوص قبائلی اضلاع کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اعلیٰ سطح کی بیٹھک میں روایتی سفارتی گفتگو سے ہٹ کر صوبے میں انسانی وسائل کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی معاشی خودانحصاری کا روڈ میپ پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ہائیڈرو پاور (پن بجلی)، قیمتی معدنیات اور ٹورازم سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بہترین ماحول موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض امداد کے بجائے دوطرفہ معاشی تعاون اور تجارتی شراکت داری کو فروغ دینا پاکستان کی اولین ترجیح ہے، جس سے صوبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ملاقات کا بڑا حصہ نوجوانوں کے مستقبل اور تعلیمی اصلاحات کے لیے مختص تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر توجہ دی کہ قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہنر اور اسکالرشپس ملنی چاہئیں۔ اس سلسلے میں تعلیمی وظائف کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کا کہنا تھا کہ امریکہ خیبرپختونخوا کی حکومت اور عوام کے ساتھ مختلف ترقیاتی منصوبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل اور تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے امریکی پروگرامز میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔




