اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران فلسطین اور کشمیر کے عوام کے حق میں پاکستان کا مؤقف واضح طور پر پیش کیا، جبکہ فلسطینی نمائندوں نے بھی خطاب کو سراہا۔
وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر خیبرپختونخوا اختیار ولی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کا مؤقف صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ امدادی سامان کی فراہمی سمیت عملی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی طلبہ پاکستان میں میڈیکل تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق پاکستان خطے میں امن اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
عطا تارڑ نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہی ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے سوال کیا کہ دہشت گردی کے خلاف فراہم کیے گئے اربوں روپے کہاں خرچ کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت اپنی تمام توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور ملکی دفاع کے لیے جو اقدامات ضروری ہوئے وہ کیے جائیں گے۔
پی ٹی آئی کے مجوزہ مارچ کے حوالے سے عطا تارڑ نے کہا کہ 27 ستمبر کے مارچ کے حوالے سے کیے گئے اعلانات کے باوجود عملی طور پر کوئی مؤثر تیاری سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں سیاسی طور پر کمزور ہوچکی ہے۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کے لیے کوئی قابل ذکر تیاری نہیں کی تھی، جبکہ سہیل آفریدی کے احتجاج سے متعلق بیانات کو انہوں نے میڈیا اسٹنٹ قرار دیا۔
جلال خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا، اب پارٹی قیادت کو اپنے کارکنوں کے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں یونیورسٹیوں اور اسپتالوں کے قیام سمیت ترقیاتی اقدامات سے متعلق حکومتی کارکردگی سامنے لائی جائے۔




