اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ملاقات کی، جس میں عالمی و علاقائی امن، فلسطین، کشمیر، دہشت گردی، سندھ طاس معاہدے اور موسمیاتی تبدیلی سمیت اہم امور پر گفتگو ہوئی۔
صدر آصف علی زرداری نے عالمی امن، مکالمے، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے انتونیو گوتریس کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعمیری روابط اور ترقی پذیر ممالک کے مسائل پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی توجہ قابلِ تحسین ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھے گا اور فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے لیے انتونیو گوتریس کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
مسئلہ کشمیر پر صدر زرداری نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب امور کا حل ضروری ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ کوئی فریق یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل یا التوا میں نہیں رکھ سکتا۔ سندھ طاس عالمی سطح پر تسلیم شدہ معاہدہ ہے جس کے تمام فریق پابند ہیں۔ پانی کو ہتھیار یا سیاسی دباؤ کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو موقع دیا۔ تنازعات کے پرامن حل کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی مؤثر راستہ ہے۔
دہشت گردی کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پرعزم شراکت دار ہے اور اس ناسور کے خاتمے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان کو افغان سرزمین سے دہشت گردی کا سامنا ہے، جبکہ دہشت گرد پراکسی گروہوں کی بیرونی حمایت سے متعلق شواہد بھی شیئر کیے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد پاکستانی اہلکار امن دستوں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کو مزید مؤثر، مربوط اور فعال بنانے کی کوششوں کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
موسمیاتی تبدیلی کے معاملے پر صدر مملکت نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیاں ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج ہیں اور اس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد ترجیحی بنیادوں پر تعمیر نو کے اقدامات کیے گئے اور موسمیاتی خطرات سے محفوظ 21 لاکھ مکانات تعمیر کیے گئے، جن کی ملکیت متاثرہ گھرانوں کی خواتین کے نام کی گئی۔




