اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ آئین کے مطابق کیا گیا اور آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ اگر کسی کو اس حوالے سے اعتراض ہے تو نشاندہی کرے، تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی جا سکتی ہے۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے پہلے روز دہشت گردی کے معاملات زیر بحث آئے اور گفتگو کا آغاز سیاسی امور سے نہیں ہوا۔ ان کے مطابق اسد قیصر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی، تاہم انہیں بتایا گیا کہ ان کے مؤقف اور خیبرپختونخوا حکومت کے مؤقف میں فرق ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کے پاس 26 نومبر کو بھی ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا آپشن موجود تھا، لیکن یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔ ان کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل بھی وہ رات گئے تک رابطے کرکے درخواست کرتے رہے۔
مذاکراتی عمل پر بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کے دوران مسودے میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسودے میں تین مرتبہ تبدیلی ہوئی، جبکہ چوتھی مرتبہ چھ تبدیلیاں کی گئیں۔ حکومت نے مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کی چھ تجاویز بھی تسلیم کیں، لیکن اس کے باوجود شرائط تبدیل ہوتی رہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کے مذاکراتی وفد کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار نہیں تھا تو اسے مذاکرات میں شریک نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو خود مذاکرات میں شریک ہونا چاہیے تھا تاکہ معاملات کو آگے بڑھایا جا سکتا۔
محسن نقوی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور فوج کے جوان ملک کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہدا کے جنازوں میں وفاقی حکام شریک ہوتے تھے، لیکن خیبرپختونخوا حکومت کا کوئی نمائندہ وہاں موجود نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کے بعض بیانات پر بھی تنقید کی۔
وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کی بڑی تعداد ملوث ہے اور ان کے بقول 80 فیصد دہشت گردی میں افغان ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کو کسی سیاسی معاملے سے منسلک نہیں کیا اور اس کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
محسن نقوی نے پی ٹی آئی کے بعض افراد کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے براہ راست روابط کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ثبوت موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مراد سعید کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ان سے فیصلے کیوں لے رہے تھے۔
ماضی کے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ دھرنے مؤخر کرنے کے لیے بھی مذاکرات کیے گئے تھے، تاہم ٹیلی فون پر رابطے کے دوران پارٹی کے بعض افراد نے طے شدہ معاملات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق ماضی کے تجربات کے باوجود حکومت نے پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو ٹھہرانے کے بجائے پی ٹی آئی کو اپنے اندرونی معاملات کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور پاکستان اس جنگ میں کامیابی حاصل کرے گا۔




