نیویارک:ایک تازہ عالمی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اگر موجودہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ جاری رہا تو اس صدی کے آخر تک دنیا کو سال میں تقریباً دو ماہ اضافی ’سپر ہاٹ‘ یعنی انتہائی گرم ترین دنوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جو انسانی زندگی، معیشت اور ماحول کے لیے شدید خطرات کا باعث بنیں گے۔
امریکی موسمیاتی ادارے کلائمیٹ سینٹرل اور ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2015 کے پیرس ماحولیاتی معاہدے کے باوجود، اب تک سالانہ تقریباً 11 اضافی ’سپر ہاٹ‘ دن بڑھ چکے ہیں، اور عالمی درجہ حرارت 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھنے کے راستے پر ہے۔
اگر پیرس معاہدہ نہ ہوتا تو عالمی درجہ حرارت چار ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا خدشہ تھا، جس سے ہر سال 114 انتہائی گرم دن ہونے کا امکان تھا۔
’سپر ہاٹ‘ دن کیا ہیں؟
’سپر ہاٹ‘ دن ایسے دن ہوتے ہیں جن میں درجہ حرارت ماضی کے گرم ترین دنوں سے 90 فیصد زیادہ ہوتا ہے، جو شدید گرمی کی لہر کے برابر ہے اور اس کا اثر صحت، فصلوں اور قدرتی ماحول پر منفی ہوتا ہے۔
متاثرہ ممالک اور ماحولیاتی ناانصافی
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چھوٹے سمندری ممالک جیسے پاناما، ساموا اور سولومن آئی لینڈز سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جہاں سالانہ 149 اضافی ’سپر ہاٹ‘ دن ہو سکتے ہیں، حالانکہ یہ ممالک عالمی آلودگی کا صرف 1 فیصد ذمہ دار ہیں۔
دوسری جانب، امریکہ، چین اور بھارت جیسے بڑے آلودگی پھیلانے والے ممالک کو 23 سے 30 اضافی گرم دنوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تحقیق کی شریک مصنفہ ڈاکٹر فریڈریکے اوٹو نے اس صورتحال کو ’ماحولیاتی ناانصافی‘ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر عالمی سطح پر فوری اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو گرمی کی شدت سے سالانہ ہلاکتوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ سکتی ہے۔




