واشنگٹن: معروف امریکی خارجہ پالیسی ماہر ڈینیئل مارکی کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے نے اسلام آباد کی علاقائی اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے اور بھارت کی جانب سے پاکستان کو تنہا کرنے کی حکمت عملی کو دھچکا پہنچا ہے۔
ڈینیئل مارکی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کی دفاعی شراکت داری اسلام آباد کو اضافی سفارتی، مالی اور عسکری سہارا فراہم کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق تینوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثرانداز ہوسکتا ہے۔
مارکی کے تجزیے کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی تعاون کے ساتھ سعودی عرب کی شمولیت اسلام آباد کے لیے نئی اسٹریٹجک گنجائش پیدا کرتی ہے۔ دفاعی ٹیکنالوجی، مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی صنعت میں تعاون سے پاکستان کی دفاعی صلاحیت مزید مستحکم ہونے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
معاہدے کے عملی اثرات کا انحصار اس کے نفاذ اور تینوں ممالک کے درمیان مستقبل کے دفاعی تعاون پر ہوگا۔ پاکستان اور ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی کے لیے ہے۔




