اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں پاکستان کے سفارتی کردار کو یورپی سوشل ڈیموکریٹک حلقوں سے وابستہ جریدے آئی پی ایس جرنل نے اہم قرار دیا ہے۔ جریدے میں شائع مضمون ’’پاکستان: دی پیس میکر‘‘ میں اسلام آباد کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان مؤثر رابطہ کار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
مضمون کے مطابق بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے برقرار رکھنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کشیدگی کم کرنے کے لیے محتاط اور فعال سفارت کاری کی، جس کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔
جریدے کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، ایران کے ساتھ طویل سرحد اور امریکا کے ساتھ دیرینہ فوجی و سفارتی روابط اسلام آباد کو دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ کاری کے لیے منفرد مقام فراہم کرتے ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان کی ماضی میں بھی مختلف فریقوں کے درمیان رابطہ کاری کی کوششوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔
مضمون میں اسلام آباد میمورنڈم کو بھی خطے کو وسیع تر جنگ سے بچانے کے لیے ایک اہم سفارتی فریم ورک قرار دیا گیا ہے۔ جریدے کے مطابق اگرچہ اس وقت میمورنڈم کو مشکلات کا سامنا ہے، تاہم کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کا راستہ برقرار رکھنے کے لیے یہ اب بھی قابلِ عمل سفارتی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کے کردار کو یورپ کے لیے بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعاون اور شراکت داری کے ذریعے سفارتی اثرورسوخ کو مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔




