لاہور: ریکٹر سپیریئر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان نے کہا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو نوکریاں تلاش کرنے کے بجائے روزگار کے مواقع پیدا کرے۔ سب کو مل کر پاکستان کو ’سپیریئر پاکستان‘ بنانا ہوگا۔
’سی پاکستان 2026‘ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سمیرا رحمان نے کہا کہ ’سی پاکستان‘ میں 250 یونیورسٹیوں کے اسٹارٹ اپس نے شرکت کی، جبکہ 4400 اسٹارٹ اپس کے منصوبے موصول ہوئے۔ ان میں 1500 پروجیکٹس خواتین کے تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’سی پاکستان 2026‘ میں 40 ممالک سے 300 بین الاقوامی اسٹارٹ اپس شریک ہوئے ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کے مواقع فراہم کرنا ایونٹ کا اہم مقصد ہے۔
ریکٹر سپیریئر یونیورسٹی نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو کاروباری سرگرمیوں میں بروئے کار لانا ضروری ہے۔ پاکستان کو ایسی جنریشن کی ضرورت ہے جو اپنے لیے ہی نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار پیدا کرے۔
ڈاکٹر سمیرا رحمان نے مزید کہا کہ بہتر گورننس کے لیے نئے انتظامی یونٹس ضروری ہیں۔ ’میرا صوبہ، میرا نظام‘ کے حوالے سے عوام میں آگاہی مہم جاری ہے تاکہ انتظامی اصلاحات کے بارے میں شعور اجاگر کیا جا سکے۔
انہوں نے میاں عامر محمود کی ملکی بہتری کے لیے جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، تعلیم کے فروغ اور کاروباری مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔




