بیجنگ: چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے بیجنگ میں منعقدہ عالمی ایگری فوڈ انوویشن کانفرنس (WAFI) 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کی اور زرعی تحقیق، اعلیٰ تعلیم اور عالمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
کانفرنس کا موضوع "زرعی خوراک کے نظاموں کی سبز اور کم کاربن تبدیلی” تھا، جس میں دنیا بھر سے پالیسی سازوں، سائنسدانوں، کاروباری رہنماؤں اور صنعت کے ماہرین نے شرکت کی۔ ڈاکٹر اقرار احمد خان نے "مقامی ایگری فوڈ حل کے لیے عالمی تعاون کو مضبوط بنانا”کے عنوان سے اعلیٰ سطحی پینل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے میں پائیدار تبدیلی کے لیے مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت اور ایسا اعلیٰ تعلیمی نظام ضروری ہے جو موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ اور غذائیت جیسے چیلنجز کا مؤثر جواب دے سکے۔
انہوں نے پاکستان اور دیگر ممالک کے درمیان زرعی تحقیق کے اشتراک کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان سے حاصل ہونے والے ایک قدرتی حیاتیاتی کنٹرول ایجنٹ نے سٹرس گریننگ بیماری کے خلاف فلوریڈا اور کیلیفورنیا کی سٹرس صنعت کو مدد فراہم کی۔

ڈاکٹر اقرار نے بتایا کہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران تقریباً ایک ہزار نوجوان پاکستانی زرعی ماہرین کو چینی اداروں، بشمول چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز، بھیجا جاچکا ہے جبکہ مزید ایک ہزار ماہرین کو بھی چین بھیجنے کا عمل جاری ہے۔
انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے زرعی تعاون اور تجارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چاول، مکئی اور تل سمیت مختلف زرعی مصنوعات چین کو برآمد کر رہا ہے جبکہ زرعی سرمایہ کاری میں بھی دوطرفہ تعاون بڑھ رہا ہے۔
چیئرمین پی ایچ ای سی نے غذائی تحفظ کے ساتھ غذائیت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں غذائی کمی کی وجوہات میں خوراک کی استطاعت، غذائی تنوع کی کمی اور طرزِ زندگی سے متعلق عوامل بھی شامل ہیں۔ کانفرنس میں ڈاکٹر اقرار احمد خان کے خطاب کے ذریعے پاکستان کے زرعی تحقیق، اعلیٰ تعلیم اور عالمی تعاون میں کردار کو اجاگر کیا گیا۔




