پاکستان
Trending

ڈی آئی خان حملے پر وفاقی وزرا کی خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید، دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا مطالبہ

 

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعے پر خیبرپختونخوا حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صوبائی قیادت سے دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اپنانے اور سکیورٹی اداروں کو مؤثر وسائل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں امن میلہ چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ عام شہری، خواتین اور بچے بھی شہید ہوئے۔ ان کے مطابق زخمیوں کو منتقل کرنے والی ایمبولینس پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید ہوئے۔

طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ دہشت گرد گروپس افغانستان سے پاکستان آتے ہیں اور انہیں مغربی سرحد کے پار سے مالی معاونت حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، جبکہ ڈوزیئرز اور مذاکرات کے باوجود حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔

وزیر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی کو ’’جہاد‘‘ قرار دینا درست نہیں. انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا کی قیادت افغانستان سے ہونے والی مبینہ فائرنگ اور دہشت گردی کی کھل کر مذمت کیوں نہیں کرتی۔

طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے صوبائی حکومت کو سکیورٹی اداروں کو مطلوبہ وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت سے نیشنل فنانس کمیشن کے تحت ملنے والے تقریباً 800 ارب روپے کے استعمال کی وضاحت بھی طلب کی۔

وزیر مملکت نے خیبرپختونخوا میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کے عمل میں سست روی، پولیس کے اختیارات اور صوبائی حکومت کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی سہولیات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو ساڑھے 12 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تاہم صوبے میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال بدستور تشویش کا باعث ہے۔

عطاء تارڑ نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف مطلوبہ اقدامات نہیں کر رہی اور سیاسی معاملات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام بھی عائد کیا۔

وفاقی وزیر نے خیبرپختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی موجودگی کا معاملہ بھی اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ ایسی گاڑیاں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ انہوں نے غیر قانونی کان کنی سمیت دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی پر بھی زور دیا۔

عطاء تارڑ نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے خیبرپختونخوا پولیس کو جدید گاڑیاں فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم ان کے بقول صوبائی حکومت نے اسے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز اور عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے وفاق اور صوبائی حکومتوں کو باہمی تعاون کے ساتھ اقدامات کرنا ہوں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button