اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی وفد کا دورہ نیویارک انتہائی مصروف اور مفید رہا، جہاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں کے ساتھ متعدد اہم ملاقاتیں ہوئیں۔
نیوز بریفنگ میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پانچ روز کے دوران متعدد اجلاسوں میں شرکت کی گئی، جبکہ روزانہ کئی اہم ملاقاتیں اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں عالمی اور علاقائی مسائل پر پاکستان کا مؤقف واضح اور مدلل انداز میں پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین سمیت مختلف عالمی تنازعات کو اقوام متحدہ کے فورم پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔ کشمیر سے متعلق او آئی سی رابطہ گروپ کے اجلاس میں بھی پاکستان نے شرکت کی، جبکہ فلسطین کے معاملے پر پاکستان کے دوٹوک مؤقف کو دہرایا گیا۔
نائب وزیراعظم کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، خطے کو درپیش خطرات اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق امور بھی عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کا حصہ رہے۔ وزیراعظم نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کی اہمیت اور خطے کی صورتحال پر بھی واضح مؤقف پیش کیا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان کی صدارت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق قرارداد منظور ہوئی۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سے وفود کی سطح پر ملاقات بھی ہوئی، جبکہ انہیں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان کے دورے کی دعوت دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی مختلف ممالک کے سربراہان اور اہم عالمی شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں، جن میں بل گیٹس، پرنس رحیم آغا خان اور آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔ پاکستان، امریکا بزنس کونسل کے وفد نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی۔
اسحاق ڈار کے مطابق وزیراعظم نے افغانستان کی جانب سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کا معاملہ بھی عالمی سطح پر اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی، جبکہ جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران پاکستانی صحافیوں سے بھی ملاقات کی۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی امن، علاقائی استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔




