پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کے خاتمے اور ترقیاتی عمل تیز کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے عوام کو عملی اقدامات کے ذریعے بہتری نظر آئے گی۔ ہماری اولین ترجیح امن کا قیام ہے، جبکہ صوبے کی پالیسی وفاق سے آئے گی، قندھار اور جلال آباد سے نہیں۔
پشاور میں اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ان پر اعتماد کیا ہے اور خیبرپختونخوا کے مسائل کے حل کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرنے پر مشاورت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کا خاتمہ، امن و امان کا قیام اور عوام کی خوشحالی ان کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 سال کے دوران پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ صحت، تعلیم، انصاف اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں بہتری لائی جائے گی، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور عوامی مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ تین ماہ میں عملی اقدامات کے نتائج دکھائی دینے لگیں گے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ پولیس اہلکاروں کو ضروری ہتھیاروں کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، جبکہ پولیس کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے برابر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پولیس نے امن و امان کے لیے 42 ارب روپے طلب کیے تھے، تاہم اسے صرف 1.8 ارب روپے دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرنے والوں کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور شہدا کے بچوں کی سرپرستی کی جائے گی۔ گورنر نے ینگ ڈاکٹرز سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مسائل حل کیے جائیں گے تاکہ عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف کی سابق صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں نفرت اور انتہا پسندی کی سیاست کے بجائے ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کارکردگی ہی ان کے دعوؤں کا جواب ہوگی۔
گورنر نے مزید کہا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنائی جائے گی اور وفاق کے ذمے واجب الادا رقوم کا معاملہ مؤثر انداز میں اٹھایا جائے گا۔ کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جبکہ مقدمات میں ملوث افراد کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا اور بے گناہ افراد کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے انخلا کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی سب سے زیادہ اہم ہے۔ ریاست کے خلاف سرگرمیوں اور توڑ پھوڑ میں ملوث افراد سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔
انہوں نے سرحدی صورتحال کے باعث تاجروں کو درپیش مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری کے مسائل حل کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ گورنر خیبرپختونخوا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے کو بدامنی سے نکال کر امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے عملی کوششیں جاری رہیں گی۔




