اسلام آباد: پاکستان اور عمان نے سفارتی و سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا استثنیٰ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے متعدد معاہدوں پر دستخط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، توانائی اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس بھی قائم کریں گے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عمانی وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور عمان کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا آٹھواں اجلاس کامیابی سے اختتام پذیر ہوا۔ اجلاس میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک معلومات کے تبادلے، مواصلات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، میڈیا تعاون اور تاریخی دستاویزات کے شعبوں میں بھی اشتراک بڑھائیں گے۔ خصوصی اقتصادی اور آزاد تجارتی زونز میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے ساتھ کاروباری روابط کے فروغ کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری فورم منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور عمان کے درمیان مذاکرات میں مشرق وسطیٰ، افغانستان، مسئلہ کشمیر، فلسطین اور سندھ طاس معاہدے سمیت اہم علاقائی امور بھی زیر بحث آئے۔ نائب وزیراعظم نے مشترکہ آبی وسائل کو ہتھیار بنانے سے متعلق بھارتی اقدام کو پاکستان کی آبی، غذائی اور توانائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔
اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ پاکستان اور عمان کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا نواں اجلاس آئندہ سال عمان میں ہوگا۔ انہوں نے عمانی وزیر خارجہ اور ان کے وفد کے تعمیری کردار پر شکریہ بھی ادا کیا۔
عمانی وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی نے کہا کہ پاکستان اور عمان کے تعلقات مشترکہ تاریخ، جغرافیائی قربت اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، غذائی تحفظ، علاقائی روابط، سیاحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
عمانی وزیر خارجہ نے علاقائی سفارت کاری میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے ایران اور امریکا کے مذاکرات میں پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے مذاکرات مکمل ہوچکے ہیں، تاہم معاملات کو حتمی شکل دینے کا انحصار ایران اور امریکا کے مذاکرات پر ہے۔




