گوجرانوالہ:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ مجبوری میں کیا گیا، وفاقی حکومت نے سابق وزیراعلیٰ کو دہشت گردی کے خلاف مل کر چلنے اور صوبے کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی تھی۔
گوجرانوالہ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ کو سنجیدگی سے باور کرایا کہ وفاق خیبرپختونخوا کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تیار ہے اور صوبے کو درکار وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ آئے روز دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور لانگ مارچ کیے جا رہے تھے، جبکہ احتجاجی دھرنوں سے پورے ملک کا نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق مذاکراتی کمیٹی نے دن رات کوششیں کیں اور مذاکرات میں لانگ مارچ کی کال واپس لینے پر اتفاق ہوا تھا، تاہم آخری وقت میں مسودے کی منظوری سے انکار کر دیا گیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے ماضی پر بھی تنقید کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پورے خطے میں مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، حکومت نے ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کو پٹرول پر سبسڈی فراہم کی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے پاکستان کے بہترین مفاد میں فیصلے کیے ہیں اور ان کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے رکن قومی اسمبلی محمود بشیر ورک کی وفات پر تعزیت کی اورکہا کہ مرحوم انتہائی شفیق انسان تھے اور سیاست کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔




