کراچی: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سانحہ کارساز کی دلخراش یادیں آج بھی تازہ ہیں، پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے بہادری سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور اپنی قائد کی حفاظت کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے خطرات کے باوجود وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر طبقے کے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، جبکہ ملک کی حفاظت کے لیے ہماری بہادر افواج بھی مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے عزم ظاہر کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرکے رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو سنجیدگی سے نہ لینے کے نتائج نقصان دہ ہوتے ہیں اور کسی کو ملک میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
بلاول بھٹو نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے لیے تیار نہیں تھے، اسی لیے پیپلز پارٹی نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کی۔
انہوں نے ملک کی معاشی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو تاریخی معاشی بحران کا سامنا ہے اور حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ جمہوری نظام میں بہتری کی ضرورت ہے، جبکہ سیاست میں آگے بڑھنے کے لیے سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر اپوزیشن گورنر راج کے خاتمے کے بعد دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادہ ہو تو ایمرجنسی کے خاتمے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمنٹ میں کمیٹی بنانے کی تجویز دی گئی تھی، جبکہ وفاقی حکومت نے بھی انتخابی اصلاحات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔




