اسرائیلی بحریہ نے انسانی امداد لے کر غزہ کی جانب جانے والی صمود فلوٹیلا کی آخری کشتی "مارینیٹ” کو بھی روک کر اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ کشتی پولینڈ کے جھنڈے کے تحت سفر کر رہی تھی اور اس پر چھ افراد سوار تھے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق، اسرائیلی فورسز نے یہ کارروائی جمعہ کی صبح غزہ سے 42.5 ناٹیکل میل (تقریباً 79 کلومیٹر) کے فاصلے پر کی۔ بعد ازاں کشتی کو اسرائیلی بندرگاہ اشدود منتقل کر دیا گیا۔
اسرائیلی فوج نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشتی پر سوار افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلوٹیلا کی کشتیاں ایک فعال جنگی علاقے کی طرف بڑھ رہی تھیں اور وہ اس کی قانونی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہی تھیں۔
ادھر فلوٹیلا کے منتظمین کا مؤقف ہے کہ یہ قافلہ انسانی امداد، رضاکاروں اور غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف پرامن احتجاج کے لیے روانہ ہوا تھا، جسے اسرائیل نے غیر قانونی طور پر روکا۔
یاد رہے کہ صمود فلوٹیلا 31 اگست کو اسپین سے روانہ ہوئی تھی، جس میں مختلف ممالک سے 42 کشتیاں شامل ہوئیں۔ اسرائیلی فورسز نے تمام کشتیوں کو روک کر تقریباً 450 رضاکاروں کو حراست میں لیا، جن میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی اقدام کے خلاف یورپ، مشرق وسطیٰ، ایشیا اور دیگر علاقوں میں مظاہرے جاری ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور شہریوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی ختم کی جائے اور رضاکاروں کی فوری رہائی کو یقینی بنایا جائے۔




