بیجنگ: دنیا کی قدیم ترین یادگاروں میں شمار کی جانے والی عظیم دیوارِ چین کے مقام بادالنگ پر اس بار سیاحوں کا ہجوم نہیں بلکہ فیشن کے رنگ بکھرے — جہاں پاکستان اور چین کا پہلا مشترکہ فیشن شو منعقد ہوا، جس نے دونوں ممالک کی تہذیبی ہم آہنگی کو ریمپ پر لا کھڑا کیا۔
یہ منفرد تقریب پاکستانی سفارتخانے اور چائنا انٹرنیشنل کلچرل کمیونیکیشن سینٹر کے تعاون سے منعقد ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے سرکردہ ڈیزائنرز نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
فیشن شو میں پاکستانی ڈیزائنرز ماہین خان، معظّم عباسی، عائشہ طارق، رضوان اللہ اور زین ہاشمی نے اپنی ایسی کلیکشن پیش کی جو نہ صرف پاکستانی روایت کا عکاس تھی بلکہ چینی جمالیات سے بھی ہم آہنگ نظر آئی۔ اجرک، روایتی بلاک پرنٹس اور مقامی کڑھائی کے امتزاج نے ماڈلز کی ریمپ واک کو ایک نیا معنی بخشا۔
اسی طرح چینی ڈیزائنر لیانگ سُو یون اور پاکستانی جیولری ڈیزائنر عقیل چوہدری نے بھی اپنے فن سے شائقین کو متاثر کیا۔
تقریب میں چینی اعلیٰ حکام، سفارتی شخصیات، میڈیا نمائندگان اور فیشن انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اس موقع پر پاکستان کے سفیر برائے چین، خلیل ہاشمی نے کہا کہ یہ فیشن شو پاک-چین ثقافتی تعاون کا عملی مظہر ہے، جو شاہراہِ ریشم کے قدیم رشتے کو ایک نئے طرز میں زندہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال صدر ایوب خان کے تاریخی دورۂ چین کی 60 ویں سالگرہ ہے، جو دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کا سنگِ میل ہے۔
لونگ یوشیانگ، چیئرمین چائنا انٹرنیشنل کلچرل کمیونیکیشن سینٹر نے کہا کہ دونوں اقوام کے خواب، روایات اور اقدار اب تخلیقی میدانوں میں مل کر ایک نئی شناخت قائم کر رہے ہیں۔ فیشن صرف ملبوسات کا نام نہیں بلکہ ایک زبان ہے اور آج وہ زبان پاک-چین دوستی بول رہی ہے۔




