واشنگٹن : امریکہ نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں اپنی عسکری برتری کا دعویٰ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایرانی فوجی طاقت اب دم توڑ رہی ہے اور آنے والے چند دن اس تنازع کا مکمل فیصلہ کر دیں گے۔امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فضائیہ ایران کی حدود میں داخل ہو کر براہِ راست کارروائیاں کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے پاس اب وقت بہت کم اور آپشنز محدود ہیں۔ اگر تہران نے مذاکرات یا معاہدے کی پیشکش قبول نہ کی تو اسے مزید عبرت ناک حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسی پریس کانفرنس میں جنرل ڈین کین نے ایران کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں میں اب تک ایران کے 150 بحری جہاز سمندر برد کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی میزائل ایران کے حساس صنعتی مراکز اور ریسرچ لیبارٹریز کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ اس کی جنگی مشینری کو مستقل طور پر ناکارہ بنایا جا سکے۔
وزیرِ جنگ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کے حوصلے بلند ہیں جبکہ ایرانی فوجی قیادت بدحواسی اور مایوسی کا شکار ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے ہونے والے میزائل حملوں میں واضح کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا دفاعی نظام بکھر چکا ہے۔
امریکی حکام نے دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ ایران کے پاس بچاؤ کا واحد راستہ "عقل مندی” اور معاہدے کی قبولیت ہے، ورنہ "آپریشن ایپک فیوری” کے تحت ایران کی باقی ماندہ عسکری صلاحیت کو بھی نیست و نابود کر دیا جائے گا۔




