واشنگٹن: امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ بھارت کے پاس سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا التوا میں رکھنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں۔
’’نیوز ویک‘‘ میں شائع مضمون میں رضوان سعید شیخ نے کہا کہ اپریل 2025 کا بھارتی اقدام سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت اور پاکستان کے حقوق کو تبدیل نہیں کرسکتا۔
پاکستانی سفیر کے مطابق ثالثی عدالت کے فیصلوں نے معاہدے کے مؤثر، قابلِ عمل اور فریقین پر لازم ہونے کی قانونی حیثیت برقرار رکھی ہے۔ مئی 2026 کے ضمنی فیصلے سمیت ثالثی عدالت کے احکامات نے مغربی دریاؤں پر بھارتی منصوبوں کو معاہدے کی مقررہ حدود کا پابند قرار دیا ہے۔
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ بھارت کی جانب سے دی گئی کوئی رعایت نہیں بلکہ دو خودمختار ریاستوں کے درمیان ایک لازم قانونی معاہدہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے آرٹیکل 12 کے تحت اس کا خاتمہ صرف دونوں حکومتوں کے باقاعدہ توثیق شدہ نئے معاہدے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔




