بین الاقوامی
Trending

جنرل اسمبلی میں ٹرمپ کا ایران کے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف، سفارتی حل کی امید بھی ظاہر کردی

 

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے جوہری پروگرام کو ایک بار پھر اپنی خارجہ پالیسی کا اہم موضوع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ساتھ ہی انہوں نے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی امید بھی ظاہر کی۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران بیلسٹک میزائلوں کی آڑ میں ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امریکی صدر کے مطابق ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی نے اس کے جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا اور ’’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘‘ کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے فوجی کارروائی سے قبل ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی تھی، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے امریکی پیشکش قبول نہ کیے جانے کے بعد فوجی آپریشن کیا گیا۔ ٹرمپ نے ایران پر خطے میں دہشت گردی اور تشدد کو فروغ دینے کا الزام بھی عائد کیا۔

امریکی صدر نے ایران کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایرانی معیشت شدید مشکلات سے دوچار ہے اور ملک کو بلند مہنگائی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر پابندیوں کے حوالے سے امریکا کو عالمی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے پر اب ایک اہم فیصلہ درپیش ہے کہ مزید کارروائی کی جائے یا معاہدے کی جانب بڑھا جائے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کی امید ہے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ امریکی نیوی نے محفوظ راستہ یقینی بنایا ہے اور تیل کی ترسیل جاری ہے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنازعات کو جہاں تک ممکن ہو سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔

ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے نتیجے میں بہت سی جانیں بچائی گئی ہیں۔ روس اور یوکرین جنگ کے حوالے سے انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

اپنے خطاب میں امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوانے کا کریڈٹ بھی لیا اور وزیراعظم شہباز شریف کا ذکر کرتے ہوئے انہیں سراہا۔ ٹرمپ نے کہا کہ عالمی امن کے لیے مختلف ممالک کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا اہم پیش رفت ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button