قاہرہ: مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے مصری مسلح افواج کو معاونت کا اختیار دینے کی غرض سے پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔
صدر السیسی کے مطابق مصر خلیجی ممالک کی درخواست پر ان کے دفاع اور سلامتی کے لیے تعاون کرسکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں ممکنہ فوجی اقدام دفاعی نوعیت کا ہوگا، جارحانہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصر خلیجی ریاستوں کو مشکل حالات میں تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو کسی بھی ضروری اقدام سے آگاہ رکھا جائے گا۔
السیسی نے یہ بات مصر کے نئے انتظامی دارالحکومت میں قائم ملٹری اکیڈمی کے نئے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پہلے بیچ کی تقریبِ تقسیمِ اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
مصری صدر نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کی جانب سے مصر کو فراہم کی جانے والی مالی اور عسکری معاونت پر اظہارِ تشکر کیا اور اسے تاریخی قرار دیا۔ انہوں نے 2011ء اور 2013ء کے دوران ان ممالک کی جانب سے مصر کو تیل، گندم اور گیس سمیت مختلف شعبوں میں فراہم کی جانے والی امداد کا بھی ذکر کیا۔
صدر السیسی نے سعودی عرب کی سلامتی برقرار رکھنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مصر خلیجی ممالک کے امن اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
انہوں نے بحیرۂ احمر اور بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی اقدام کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے ان اہم بحری گزرگاہوں کے تحفظ کو بھی ضروری قرار دیا




