اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بامقصد بات چیت کے لیے ہر وقت تیار ہے، ملک کی بہتری کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ مکالمے کو ترجیح دی ہے، اب دیکھنا ہے کہ اپوزیشن ملکی بہتری کے لیے کتنی سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، مذاکرات کے لیے دونوں جانب سے آمادگی ضروری ہے۔
وزیراعظم نے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے فی لیٹر کمی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان توانائی کا خالص درآمد کنندہ ہے، اس لیے عالمی اور علاقائی صورتحال کے اثرات ملکی معیشت پر پڑتے ہیں۔ خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث تیل کی سپلائی میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت مشکل حالات کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
وزیراعظم نے تاجروں کو غیرضروری طور پر ہراساں کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری طبقے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ سیاسی مکالمے کو بھی آگے بڑھانا چاہتی ہے اور ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔




